آشفتہ مزاج
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - پراگندہ دل، پریشاں حال۔ "یہ خبر سن کر سخت برہم اور آشفتہ مزاج ہوئے۔" ( محل خانہ شاہی، ١٩١٤ء، ٤١ )
اشتقاق
فارسی مصدر 'آشفتن' سے مشتق صیغہ حالیہ تمام 'آشفتہ' کے ساتھ عربی زبان سے ماخوذ اسم 'مزاج' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٨٧٨ء میں "گلزار داغ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - پراگندہ دل، پریشاں حال۔ "یہ خبر سن کر سخت برہم اور آشفتہ مزاج ہوئے۔" ( محل خانہ شاہی، ١٩١٤ء، ٤١ )